سری نگر،29؍اگست (ایس او نیوز؍ یو این آئی) ماہ رواں کی 5 تاریخ سے جاری صورتحال کے بیچ وادی کشمیر میں گلیوں میں کرکٹ کھیلنا وقت گزاری کا بہترین ذریعہ بن گیا ہے وہیں پیر وجوان کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کو دکانوں کے تھڑوں اور برلب سڑک چھوٹی پارکوں میں موجودہ حالات پر گرما گرم بحث و مباحثوں میں بھی مشغول دیکھا جا رہا ہے۔
تمام تر تجارتی سرگرمیاں مفلوج رہنے کے باعث لوگ بالخصوص تجارت پیشہ لوگ جن کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بمشکل ہی کھل کر بات کرنے کا وقت ملتا تھا آج کل اپنے احباب و اقارب کے ساتھ روزانہ بنیادوں پر ملاقاتیں ہوجاتی ہیں بلکہ دن بھر ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔
سری نگر کے محمد شفیع نامی ایک دکاندار نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ 'میں صبح سے شام تک بلکہ بسا اوقات رات دیر گئے تک اپنی دکان پر گاہکوں کے ساتھ مشغول رہتا تھا لیکن اب چونکہ گزشتہ تین ہفتوں سے دکان بند ہے لہٰذا اب میں صبح ناشتہ کرنے کے بعد ہی جب باہر نکلتا ہوں تو دکان کے تھڑے پر بیٹھے لوگوں کے ساتھ بحث ومباحثے میں شریک ہو جاتا ہوں'۔
انہوں نے کہا کہ محلے کے لوگوں کے ساتھ اس طرح ملاقات بھی ہوتی ہے اور وقت گزاری بھی ہوتی ہے۔ ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کرنے والے ایک نوجوان نے کہا کہ وادی میں جاری صورتحال سے اگرچہ میں بے روزگار ہوا ہوں لیکن مجھے اپنے رشتہ داروں کو ملنے کا موقعہ ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 'میں صبح سویرے ڈیوٹی پر روانہ ہوجاتا تھا اور شام کو گھر واپس لوٹتا تھا اب چونکہ یہاں سب کچھ ٹھپ ہے لہٰذا مجھے جہاں رشتہ داروں کو ملنے کا موقعہ ملا وہیں اپنے دوستوں کے ساتھ گلیوں میں دن بھر کرکٹ کھیلنے کا بھی موقعہ بھی میسر ہوا اس طرح وقت بھی گزر جاتا ہے'۔
شہر خاص سے تعلق رکھنے والے محمد انور نامی ایک شہری کا کہنا ہے کہ وادی میں تجارتی سرگرمیاں مفلوج رہنے کے باعث لوگ اب چار پیسے کمانے سے زیادہ توجہ کسی طرح وقت گزارنے پر دیتے ہیں تاکہ ذہنی بیماریوں کے شکار نہ ہوسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'یہاں جب تمام تر تجارتی سرگرمیاں بند ہیں بازار سنساں ہیں تو لوگ وقت گزارنے کے لئے مختلف طریقے اپنانے پر مجبور ہیں، میں دن بھر اپنے کمرے میں ٹی وی دیکھتا ہوں، کبھی نیوز دیکھتا ہوں تو کبھی کوئی تفریحی پروگرام اس طرح وقت بھی گزر جاتا ہے اور تفن طبع کا سامان بھی فراہم ہوجاتا ہے'۔
ادھر دیہی علاقوں میں لوگ اپنے کھیت کھلیانوں یا میوہ باغوں میں مخلتف قسم کے کاموں میں مصروف دیکھے جاتے ہیں تاہم شہر سری نگر کے لوگوں کے لئے موجودہ صورتحال سوہان روح بن گئی ہے۔
بتادیں کہ ماہ رواں کی پانچ تاریخ کو مرکزی حکومت کی طرف سے جموں کشمیر کو خصوصی درجہ عطا کرنے والی آئینی دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد سے وادی کشمیر میں جہاں بازار بند اور تمام تر کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہیں وہیں انٹرنیٹ خدمات بھی مکمل طور پر بند ہیں۔